باسمہ تعالیٰ وتقدس الجواب: صُورت مسئولہ میں خاتون ’’شہزین بنت عبد الکریم ‘‘ مکمل ساڑھے چھ تولہ سونے کی مالکہ ہے،ساڑھے چار تولہ انہیں اپنے والدین کی طرف سے ملا اور سُسرال کی طرف سے ملاگیا دو تولہ میں ان کے لیے ہبہ (تحفہ) کی صراحت ہے۔ پھر خاتون چونکہ صرف اپنے والدین کی طرف سے ملے گئے سونے کا مطالبہ کررہی ہے اس سے معلوم ہوا بقیہ سونا وہ ’’قاسم علی ولد عبدالرحیم‘‘ کو اپنی جانب سے مُعاف کررہی ہیں اور کوئی شخص اپنے مقروض کو اپنا قرض ہبہ کرے تو یہ شرعاً جائز ہے ،قرض خواہ کے صرف مُعاف کرنے ہی سے مُعاف ہوجائے گا،لہذا ’’قاسم علی ولد عبد الرحیم‘‘ ’’شہزین بنت عبد الکریم ‘‘ کو ساڑھے چار تولہ سونا دینے کے پابند ہیں۔عاقل بالغ شخص جب اپنے اُوپر کسی کے قرض کا اِقرار کرے، توجس قدر مال کا اقرار کیا ہے مُقّر پر اس مال کی ادائیگی لازم ہے۔
خاتون کو مکمل سونا ہبہ کیا گیا لہذا مکمل سونے کی خاتون مالکہ ہے،چنانچہ امام برہان الدین ابو المعالی محمود بن صدرالشریعہ بن مازہ بخاری حنفی متوفی ۶۱۶ھ لکھتے ہیں:’’والهبة تُوجب الملكَ بغيرِ عوضٍ‘‘(المحیط البرھانی،کتاب الشھادۃ ، الفصل الثانی والعشرون،۱۳/۴۱۸، مطبوعۃ: دار إحیاء تراث،العربي،بیروت۔لبنان)
یعنی،ہبہ(تحفہ) ملکیت کو بغیر عوض کے لازم کرتا ہے۔
قرض خواہ کا اپنا قرض مقروض کو مُعاف کرنا جائز ہے اور یہ عقد صرف ایجاب سے منعقد ہوجائے گا،چنانچہ علّامہ نظام الدین حنفی متوفی ۱۰۹۲ھ اور علمائے ہند کی ایک جماعت نے لکھا ہے:’’هِبةُ الدّين ممّن عليه الدّين وإبراءه يتمّ من غيرِ قبول من المديُون ويرتدّ بردّه ذَكرَه عامّةُ المشايخ رحمهُم اللهُ تعالىٰ، وهو المُختار، كذَا في جواهر الأخلاطي‘‘(الفتاوی الھندیّۃ،کتابُ الھبۃ،البابُ الرّابع في الھبۃ الدّین ممّن علیہ،۴/۳۸۴، مطبوعۃ:دارالمعرفۃ، بیروت، الطبعۃ الثالثۃ:۱۳۹۳ھ-۱۹۷۳م) (الجواہر الاخلاطی،کتاب الھبۃ،ص:۱۴۱،الف،مخطُوط مصوّر)
یعنی،جس پر قرض ہے اسے اپنا قرض ہبہ کردینا یا قرض معاف کردینا یہ مقروض کی طرف سے قبول کیے بغیر مکمل ہوجاتا ہے (صرف ایجاب کافی ہے)ہاں اگر مقروض ردّ کردے تو ردّ ہوجائے گا۔یہ ہی مُختار ہے۔اسی طرح ’’جواہر الاخلاطی‘‘ میں ہے۔
اور امام اہل سنّت امام احمد رضا خان حنفی متوفی ۱۳۴۰ ھ لکھتے ہیں:’’ہندہ نے اپنی صحت میں مہر زید کوبخشا(معاف کیا/ہبہ کیا) تو اس ہبہ کا نفاذ بلا شبہ ہوگیا، اس میں ہندہ کی طرف سے صرف ایجاب کافی تھا بشرطیکہ زید نے اس کو ردّ نہ کیا ہو‘‘۔(فتاوی رضویہ،کتاب الھبۃ،۱۹/۲۳۳،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
شادی بیاہ میں جو تحائف دیے جاتے ہیں اس میں کہاں ملکیت ہے اور کہاں عاریت ہے اس کا فیصلہ خاندان کے عُرف پر مبنی ہے لیکن اگر صراحت کردی جائے مثلا:قرض یا عاریت تو جس بات کی صراحت کی وہی مراد ہوگا،چنانچہ علّامہ محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ۱۰۸۸ھ لکھتے ہیں:’’لأن الصّريحَ يُفوّق الدّلالةَ‘‘علّامہ محمدبن عبداللہ بن احمدتمرتاشی حنفی متوفی۱۰۰۴ھ لکھتے ہیں:(الدّرالمختار،کتاب الشھادۃ،باب المھر،ص:۱۹۳،مطبوعۃ:دارالکتب العلمیّۃ ،بیروت،الطبقۃ الأولی:۱۴۲۳ھ۔۲۰۰۲م)
یعنی،صریح دلالت(عُرف )سے اوپر ہوتا ہے۔
اسی طرح صدر الشریعہ محمد امجد علی اعظمی حنفی متوفی ۱۳۴۰ ھ لکھتے ہیں:’’شادی کے موقع پر طرح طرح کے ہدایا آتے ہیں اور وہ چیزیں کس کے لیے ہیں اس کے متعلق جو عرف ہواُس پر عمل کیا جائے اور اگر بھیجنے والے نے تصریح کردی ہے تو یہ سب سے بڑھ کر ہے‘‘۔(بہار شریعت،ہبہ کا بیان،۳/۱۴/۷۹،مطبوعہ:مکتبۃ المدینہ،کراچی)
عاقل بالغ شخص اپنے اُوپر کسی مال کا اقرار کرے تو شرعاً اس کا اقرار درست اوراس پر مال لازم ہوجائے گا،چنانچہ امام ابوالحسین احمد بن محمد قدوری حنفی متوفی۴۲۸ھ لکھتےہیں:’’إذا أقرّ الحرُّ البالغُ العاقلُ على نفسِه بحقّ لزمه إقرارُه‘‘ (المُختصر القُدوری،کتاب الإقرار،ص:۹۸،مطبوعۃ:دارالکتب العلمیہ،بیروت،الطبعۃ الأولی۱۴۱۸ھ-۱۹۹۷م)
یعنی،آزاد عاقل بالغ نے اپنے اُوپر کسی حقّ کا اقرار کیا تو وہ اس پر لازم ہوجائے گا۔
اِس کے تحت امام ابو بکر بن علی بن محمد حداد زبیدی حنفی متوفی۸۰۰ھ لکھتے ہیں:’’وقولُه بحقّ أي إذا قال: لفلان علي حق لزمَه أن يُبيّن ما له قيمةً‘‘(الجوھرۃُ النّیرۃ،کتابُ الإقرار،۱/۵۵۵،مطبوعۃ:دارالکتب العلمیۃ، بیروت،الطبعۃ الأولی ۱۴۲۷ھ-۲۰۰۶م)
یعنی،ماتن کا قول ’’حقّ ‘‘ اس سے مراد اقرار کرنے والا بیان کرے کہ اس پر کتنامال لازم ہے۔
واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب