صُورت مسئولہ میں برتقدیر ِصدقِ سائل و انحصارِ وُرثہ در مذکورین بعد امور ثلاثہ مُتقدّمہ علی الارث (یعنی کفن و دفن کے جملہِ اخراجات اور اگر مَرحوم کے ذمے قرض ہو تو اس کی ادائیگی اور غیر وارث کے لیے وصیت ہو تو تہائی مال سے اسے پورا کرنے کے بعد) مرحوم کی کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کے گیارہ (۱۱) حصے کیے جائیں گے۔ ان میں سے تمام بیٹوں کو دو دو (۲،۲) حصے اور تمام بیٹیوں کو ایک ایک (حصہ ) ملے گا .
چنانچہ اگر بیٹیوں کے ساتھ بیٹا بھی ہو تو بیٹیاں عصبہ بن جائیں گی اور لڑکے کو لڑکی سے دگنا ملے گا اس بارے میں اللہ عزوجل فرماتا ہے :’’ یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ‘‘ ( النساء، 4/11)
ترجمہ :’’اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر۔‘‘ ( کنزالایمان)
صورۃ المسئلۃ ہٰکذا:
المسئلۃ من:۱۱ مَرحوم
الـــمـــیــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیٹا بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی بیٹی بیٹی
۲ ۲ ۲ ۲ ۱ ۱ ۱
دوسرے سُوال کا جواب یہ ہے کہ بجلی ، گیس اور پانی کے بل بھائی ہی ادا کریں گے کہ انہوں نے ہی اِن سہولیات سے نفع اٹھایا ہے اور یہ شرعی اُصول ہے کہ جو شخص نفع اٹھاتا ہے وہی خرچہ بھی برداشت کرتا ہے اور جہاں تک مکان کے پیپرز کا تعلق ہے تو وہ پیپرز جس کے زریعے تمام وارثین کسی ایک وارث کے نام پر گھر کو منتقل کرتے ہیں (power of attorney)،اُس پرجتنی رقم خرچ ہوئی ہوگی ،وہ تمام بھائیوں اور بہنوں کو اپنی ملکیت کے مطابق ادا کرنی ہوگی کہ اُن پیپرز کا تعلّق مشترکہ مکان کے ساتھ ہے اور مشترکہ مکان پر جو ضروری خرچہ ہوتا ہے وہ تمام شرکاء کی ملکیت کے اعتبار سےتقسیم ہوتا ہے ۔ اورصورت ِمسئولہ میں چونکہ گھر کے گیارہ حصے بن رہے ہیں تو خرچہ گیارہ حصوں میں تقسیم ہوگا اور ہرہر بہن کو ایک ایک حصہ اور ہر ہر بھائی کو دو دو حصے دینے ہوں گے اور گھر کے بکنے کے بعد لیز (lease) میں اور خریدار کے اپنی ملکیت میں گھر کو منتقل کرانے کے پیپرز بنانے میں جو خرچہ ہوا ہوگا وہ کسی بھائی اور بہن پر لازم نہیں ہوگا بلکہ وہ تمام خرچہ خریدار ہی پر لازم ہوگا۔
چنانچہ سلطنتِ عثمانیہ کےعُلمائےکرام نےلکھاہے: ’’اَلغَرمُ بِالغَنمِ یَعنِی:إِنَّ مَن یَنَالُ نَفعَ شَیءٍ یَتحَمّلُ ضَرَرَہُ‘‘ (مجلّۃالأحکام العدلیّۃ، المادّۃ:۸۷ ،ص:۱۷۸،مطبوعۃ:دار الکتب،بشاور)
یعنی:نقصان کے ساتھ فائدہ حاصل کرنا یعنی: جو شخص کسی چیز کا فائدہ اٹھاتا ہے اسے اس کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔
اورعلامہ علی حیدر خواجہ آفندی متوفی۱۳۵۳ح’’الغرم بالغنم‘‘مادے کے تحت لکھتے ہیں:’’إذَا احتاجَ ملکٌ مشترکٌ لِلتَّعمِیرِ وَالتَّرمِیمِ فَعَلٰی کُلِّ وَاحدٍ مِنَ الشُّرکَاءِ أَن یَّدَ فَعَ مِنَ النَّفقَاتِ بِنِسبۃٍ فی حِصَّۃِ مِنَ الملکِ۔‘‘ (دررا الحکام شرح مجلۃ الأحکام،المادۃ ۸۷: الغرم بالغنم،۱/۷۹، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
یعنی:جب ملکِ مشترک کو تعمیر اور تَرمیم کی ضرورت ہو تو شُرکاء میں سے ہر ایک اپنی ملکیت کے تناسب سے خرچہ دے گا۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب