شیئر

ڈاؤن لوڈ

اللہ تعالیٰ کو شفیع کہنا کیسا؟

سوال

الاستفتاء: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے میں کہ اِن الفاظ ’’أللّٰھُمَّ اشْفَعْنَا فَإنَّکَ خَیْرُ الشّافِعِیْن‘‘ کے ساتھ دُعا کرنا دُرست ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

باسمہ تعالیٰ وتقدّس الجواب:مذکورہ کلمات کے ساتھ دُعا کرنا  درست نہیں کیونکہ   ’’أللّٰھُمَّ اشْفَعْنَا فَإنَّکَ خَیْرُ الشّافِعِیْن‘‘ کا معنیٰ ہے ’’اے اللہ! ہماری شفاعت فرما کہ تُو بہترین شفاعت کرنے والا ہے۔‘‘

شفاعت کا معنیٰ ’’سِفارش کرنا‘‘ہے، جس کا اِطلاق باری تعالیٰ کے لئے جائز نہیں کیونکہ سفارش میں کسی اور کی  طرف رُجُوع کرنا ہے ،جس میں احتیاجی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی احتیاجی سے مبرّا اور پاک ہے اور سب اُس کے محتاج ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ کے لئے لفظ ’’شافع‘‘ یا ’’شفیع‘‘ استعمال کرنا جائز نہیں لہٰذا مذکور فی السوال کلمات کے ساتھ دُعا کرنا شرعاً ممنوع ہے البتّہ معنیٰ اور مطلب معلوم نہ ہونے کی بِنا پر کسی نے اِن الفاظ کے ساتھ کبھی دُعا کرلی ہو، تو اُس پر حُکمِ کُفر نہیں مگر توبہ کرلی جائے اور مسلمان کو توبہ کرتے رہنا چاہئے۔

چنانچہ امام ابوداؤد سلیمان بن اشعث سجستانی  متوفی۲۷۵ھ، حافظ ابو ابکر احمد بن عمرو بَزّار متوفی ۲۹۳ھ اور  امام  ابو القاسم  سلیمان احمد طبرانی  متوفی۳۶۰ھ اپنی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں:’’عن جُبَير بن محمَّد بن جُبير بن مُطعِم، عن أبيه عن جَدِّه، قال:أتَى رَسُوْلَ الله صلى الله عليه وسلم أعْرَابىٌّ، فقال: يَا رَسُوْلَ الله صلى الله عليه وسلم، جَهِدَتِ الأنفُسُ، وضَاعَتِ العيالُ، ونُهِكَتِ الأموالُ، وهَلَكَتِ الأنعَامُ، فاسْتَسْقِ الله عَزَّ وَجَلَّ لَنَا، فإنّا نَسْتَشْفِعُ بِكَ علَى الله، ونَسْتَشْفِعُ بِالله عَلَيْكَ، قَال رَسُوْلُ الله صلى الله عليه وسلم:وَيْحَكَ! أتَدْرِي مَا تَقُوْلُ؟ وَسَبَّحَ رَسُوْلُ الله صلى الله عليه وسلم، فَمَا زَالَ يُسَبِّحُ حتَّى عُرِفَ ذَلِكَ في وُجُوْهِ أصْحَابِهِ، ثُمَّ قَالَ:وَيْحَكَ! إنَّهُ لا يُسْتَشْفَعُ بِالله على أحَدٍ مِنْ خَلْقِهِ، شَأنُ الله أعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ‘‘(سُنن أبی داؤد،کتاب السنۃ، باب فی الجھمیۃ، رقم الحدیث: ۴۷۲۶، ۵/۶۳، مطبوعۃ: دارابن حزم،بیروت،الطبعۃ الأولی ۱۴۱۸ھ-۱۹۹۷م)(البحر الزّخّار المعروف بمسند البزَّار، مسند عمرو بن عون عن النبی ﷺ، حدیث جبیر بن مطعم عن النبی ﷺ، رقم الحدیث: ۳۴۳۲، ۸/۳۵۴، مطبوعۃ: مکتبۃ العلوم والحکم، المدینۃ المنوّرۃ، طبع: ۱۴۲۴ھ-۲۰۰۳م)(المعجم الکبیر للطبرانی، باب الجیم، رقم الحدیث:۱۵۴۷، ۲/۱۲۸، مطبوعۃ: دار إحیاء التراث، بیروت)

یعنی:  رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں ایک اعرابی (دیہاتی صحابی)حاضر ہوئے اور عرض کی! یا رسول اللہ ﷺ جانیں مشکل میں پڑچکی ہیں، بال بچے (بُھوک کے مارے) کمزور ہوچکے ہیں، اَموال کم ہوگئے ہیں اور مویشی ہلاک ہوگئے ہیں۔ آپ  ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بارش کی دُعا کریں۔ پس ہم آپ کو بارگاہِ الٰہی میں شفیع بناتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کو آپ پر شفیع بناتے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تجھ پر افسوس ہے۔ تم جانتے ہو کہ کیا کہہ رہے ہو؟  رسول اللہ ﷺ نے سبحان اللہ کہا اور کہتے رہے حتّی کہ  صحابہ کرام کے چہروں پر آثارِ خشیّت نمودار ہوگئے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا! تجھ پر افسوس! یہ اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان نہیں کہ اُسے مخلوق میں سے کسی پر شفیع بیایا جائے، اللہ تعالیٰ کی شان اس سے بَرتَر ہے۔

حدیثِ مذکور کی شرح میں علاّمہ علی بن سلطان قاری حنفی متوفی ۱۰۱۴ھ لکھتے ہیں:’’إنَّ الشّفاعةَ هِي الانْضِمامُ إلى آخَرَ ناصراً له وسائِلاً عنه إلى ذِي سُلطانٍ عظيم     مَنَعَ  صلى الله عليه وسلم  أن يُستشْفَعَ بالله على أحدٍ‘‘ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، کتاب أحوال القیامۃ وبدء الخلق، باب بدء الخلق وذکر الأنبیاء علیھم الصلاۃ والسلام، تحت الحدیث:۵۷۲۷، ۱۰/۴۰۸، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، الطبعۃ الأولیٰ ۱۴۲۲ھ-۲۰۰۱م)

یعنی:شفاعت کسی دوسرے کے ساتھ اُس کی مدد  اور سُوال کے لئے بڑے حاکم سے ملنے کو کہتے ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے اللہ تبارکَ وتعالیٰ کو کسی پر شفیع بنانے سے منع فرمایا ہے۔

اسی طرح  شیخ ِ محقِّق شیخ عبدالحق محدِّث دہلوی  حنفی متوفی ۱۰۵۲ ھ لکھتے ہیں:’’اسْتَشْفَعْتُ بفلانٍ على فلانٍ: ذهبتُ إليه واسْتعنتُ ليُشفعَ له إليه، فالاسْتِشفاعُ به على الله تعالىٰ جائزٌ، وأمّا الاسْتِشفاعُ بالله عليه فكلّا، ولهذا سبَّحَ صلى اللَّه عليه وسلم ونزّهَ اللَه عنْ ذلكَ، وكرّرَ ذلك وغضِبَ، حتّى تغيَّرَ وجْهُه الشّريفُ، وعُرف أثَرُ ذلك التّغيُّرِ في وُجوهِ أصحابِه أيضًا‘‘ (لمعات التنقیح شرح مشکاۃ المصابیح، باب بدء الخلق وذکر الأنبیاء علیھم الصلاۃ والسلام، الفصل الثانی، تحت الحدیث: ۵۷۲۷، ۹/۲۰۷، مطبوعۃ: دار النوادر، دمشق، الطبعۃ الأولیٰ ۱۴۳۵ھ-۲۰۱۴م)

یعنی: ’’اسْتَشْفَعْتُ بفلانٍ على فلانٍ‘‘  کا مطلب ہے کہ میں کسی کے لئے فُلاں شخص کے پاس سفارش کرنے اور مدد مانگنے کے لئے گیا۔ پس بارگاہِ الٰہی میں تو سفارِش کی التجاء کرنا جائز ہے مگر رہا اللہ تعالیٰ کو کسی پر شفیع بنانا، تو یہ ہرگز جائز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے  تکرار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تسبیح و پاکی بیان فرمائی اور غضب فرمایا حتّی کہ آپ ﷺ کا چہرۂ مُبارک غضب کی وجہ سے متغیّر ہوگیا اور اُس تغیُّر کا اثر صحابۂ کرام کے چہروں پر بھی ظاہر ہوا۔

اور امام اہلسنّت امام احمد رضا حنفی متوفی ۱۳۴۰ھ لکھتے ہیں:’’اللہ عزّوجلّ وسیلہ وتوسُّل وتوسُّط بننے سے پاک ہے۔ اس سے اُوپر کون ہے کہ یہ اس کی طرف وسیلہ ہوگا اور اس کے سوا حقیقی حاجت روا کون ہے۔ کہ یہ بیچ میں واسطہ بنے گا، ولہذا حدیث میں ہے جب اعرابی نے حضور پُر نور صلواتُ اللہ تعالیٰ وسلامُہ علیہ سے عرض کیاکہ یارسول اللہ ! ہم حضور کو اللہ تعالیٰ کی طرف شفیع بناتے ہیں اور اللہ عزّوجلّ کو حضور کے سامنے شفیع لاتے ہیں۔

حُضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر سخت گِراں گزرا، دیر تک سبحان اللہ فرماتے رہے ۔ پھر فرمایا:وَیْحَکَ إنَّہُ لایُسْتَشْفَعُ بِاﷲ علی أحَدٍ شَانُ اﷲ أعْظَمُ مِنْ ذٰلِکَ،رواہ أبوداؤد عن جُبَیْرِ بنِ مُطْعِمٍ رضی اﷲ تعالٰی عنہ۔ ارے نادان! اللہ کو کسی کے پاس سفارشی نہیں لاتے ہیں کہ اللہ کی شان اس سے بہت بڑی ہے۔(ت)‘‘  (الفتاوی الرضویۃ، کتاب الحظر والإباحۃ، ۲۱/۳۰۴، مطبوعۃ: رضا  فاؤندیشن، لاہور) (سُنن أبی داؤد،کتاب السنۃ، باب فی الجھمیۃ، رقم الحدیث: ۴۷۲۶، ۵/۶۳، مطبوعۃ: دارابن حزم،بیروت،الطبعۃ الأولی ۱۴۱۸ھ-۱۹۹۷م)

یُونہی  حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان نعیمی حنفی متوفی ۱۳۹۱لکھتے ہیں:’’شفاعت بنا ہے شفیع سے بمعنی جوڑا،ربّ فرماتاہے:’’وَ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِ‘‘[اور جُفت اور طاق (کی قسم)(الفجر:۸۹/۳)]۔سفارش کو شفاعت اس لیے کہتے ہیں کہ سائل حاکم کے سامنے ا کیلا پیش ہونے کی ہمّت نہیں کرتا تو اس حاکم کے کسی منظور مقبول کے ساتھ مل کر، جڑ کر حاکم کے سامنے پیش ہوتا ہے۔بہرحال شفیع سے حاکم افضل واعلیٰ ہونا ضروری ہے اگر خدا تعالیٰ کو شفیع کہا جاوے تو لازم آوے گا کہ کوئی اور اس سے اعلیٰ ہے جس کے دربار میں خدا تعالیٰ سے سفارش کرائی گئی۔چونکہ یہ بہت باریک بات تھی اس لیے اُس شخص کو نہ تو کافر کہا گیا نہ اُس سے توبہ کرائی گئی،اُس نے ربّ تعالیٰ کی توہین نہیں کی بلکہ وہ شفاعت کے معنی نہیں سمجھا۔‘‘ (مِرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح،  پیدائش کی ابتدا اور نبیوں کا ذکر،   الفصل الثانی، تحت الحدیث: ۵۷۲۷، ۷/۴۴۰، مطبوعہ: نعیمی کتب خانہ، گجرات)

اور  یہ مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے، کسی کا محتاج نہیں اور سب اُس کے محتاج ہیں۔چنانچہ اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّٰهِۚ-وَ اللّٰهُ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ (فاطر:۳۵/۱۶)

ترجمہ: اے لوگو! تم سب اللہ کے محتاج  اور اللہ ہی بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا۔ (کنز الاِیمان)

آیتِ مذکورہ کی تفسیر میں امام ابو اللیث نصر بن محمد سمرقندی حنفی متوفی ۳۷۵ھ لکھتے ہیں:’’يَا أيُّهَا النَّاسُ أنْتُمُ الفُقَرَاءُ إلى الله يعني:أنتُم مُحتاجون إلى ما عندَه. ويُقال: أنتم الفُقراءُ إلى الله في رزْقِه ومغفرتِه واللهُ هُوَ الْغَنِيُّ الحَمِيْدُ الغَنِيُّ عنْ عِبادتِكم الحميدُ في فعلِه وسُلطانِه وهذا كما قال في آيةٍ أخْرى:واللهُ الْغَنِيُّ وَأنْتُمُ الْفُقَرَاءُ [محمد: ٣٨] لأنَّ كُلَّ واحدٍ يحتاجُ إليه. لأنَّ أحداً لا يَقدِر أن يُصلِحَ أمرَه إلا بالأعْوانِ، والأميرُ ما لمْ يكُنْ له خَدَمٌ وأعوانٌ، لا يقدِرُ على الإمارةِ. وكذلك التّاجرُ يحتاجُ إلى المُكارينَ، واللهُ عزّ وجلّ غَنِيٌّ عن الأعوانِ وغيرِه‘‘(تفسیر السمرقندی المسمّی بحر العلوم، فاطر:۳۵، تحت الآیۃ: ۱۶، ۳/۱۰۴، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، الطبعۃ الأولیٰ ۱۴۱۳ھ- ۱۹۹۳م)

یعنی:  تم بارگاہِ الٰہی کے محتاج ہو اور کہا جاتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی  بارگاہ میں محتاج ہو رزق و مغفرت میں جبکہ اللہ تعالیٰ بے نیاز اور حمد کیا ہوا ہے۔ بے نیاز ہے اپنی عبادت سے، محمود ہے اپنے فعل و سلطنت میں۔ اور یہی مضمون ایک دوسری آیت ’’اللہ بے نیاز اور تم محتاج ہو‘‘ میں بھی ہے کیونکہ ہر ایک اُس کا محتاج ہے کہ کوئی بھی بغیر مددگاروں کے اپنا کوئی کام سر انجام دینے کی قدرت نہیں رکھتا اور حاکم بھی بغیر خُدّام و مُعاونین حکمرانی کی طاقت نہیں رکھتا۔ اسی طرح تاجر بھی اشیاء کو کرایہ پر دینے والوں کے محتاج ہیں مگر اللہ تبارک وتعالیٰ مددگار وغیرہ سے مستغنی و بے نیاز ہے۔

مجیب : المفتی محمد جنید العطاری النّعیمی

فتوی نمبر : TF-4080

تاریخ اجراء :۲۸ربیع الآخر،۱۴۴۷ھ۔۲۲ ،اکتوبر ،۲۰۲۵م

تازہ ترین فتاویٰ

سوال

فلاں رشتہ دار کے گھر کا کھانا مجھ پر حرام ہے، کہنے کا حکم

سوال

قرض معاف کرنا

سوال

روپیہ بطورِ قرض دینا جبکہ واپسی میں سونے کی شرط ہو

سوال

بجلی کے بل

سوال

حربی کافر سے پاکستان میں سود لینا کیسا

کیٹیگریز