شیئر

ڈاؤن لوڈ

فلاں رشتہ دار کے گھر کا کھانا مجھ پر حرام ہے، کہنے کا حکم

سوال

الاستفتاء: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری والدہ نے کُچھ ماہ قبل کہا تھا کہ ’’فُلاں رشتہ دار کے گھر کا کھانا مجھ پر حرام ہے‘‘ مگر ابھی کچھ روز قبل اُنہیں رشتہ دار کے گھر دعوت کے موقع پر کھانا کھایا۔ شرعی حوالے سے اِس کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

باسمہ تعالیٰ وتقدّس الجواب:سُوال میں ذِکر کردہ جُملہ’’فُلاں رشتہ دار کے گھر کا کھانا پینا مُجھ پر حرام ہے‘‘ کہنے سے قسم منعقد ہوچکی تھی کیونکہ حلال چیزوں کو اپنے اُوپر حرام کرنا بھی قسم ہی ہے۔پس اُسی رشتہ دار کے گھر کا کھانا کھانے کی وجہ سے قسم ٹوٹ گئی لہٰذا قسم توڑنےپرکفّارہ ادا کرنا واجب  ہے مگر یاد رکھیں کہ بات بات پر قسم  نہیں کھانی چاہئے اور بالخصوص کسی نیک اور بھلائی کے کام نہ کرنے کی قسم کھانے سے احترازکیا جائے اور  اگر کبھی ایسی قسم  کھا لی گئی، جس کی وجہ سے قطع تعلُّقی وغیرہ لازم آتی ہو، تو ایسی قسم کو توڑکر کفّارہ ادا کرنے کا حکم ہے۔

حلال چیز کو اپنے اُوپر حرام کرنا بھی قسم ہے جیساکہ  علامہ شمس الدین ابوبکرمحمد بن ابو سہل سرخسی حنفی متوفی ۴۸۴ھ اور صدر الشریعہ اصغر  عبیداللہ بن مسعود  بن تاج الشریعہ محمود بن صدرُالشریعہ اکبر احمد محبوبی حنفی  متوفی  ۷۴۷ھ لکھتے ہیں: ’’وتحرِيْم الحلالِ يمينٌ؛ لِقولِه تعالىٰ:(لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللهُ لَكَ) إلى قولِه(قَدْ فَرَضَ اللهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ)‘‘

(المبسوط للسرخسی، کتاب الطلاق، باب ما تقع بہ الفرقۃ مما یشبہ الطلاق، ۶/۷۰، مطبوعۃ: دار المعرفۃ، بیروت)(شرح الوقایۃ، کتاب الصوم، باب موجب الإفساد، ۲/۵۳۲، مطبوعۃ:دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

یعنی: حلال چیز کو حرام کرنا قسم ہے جس کی وجہ فرمانِ باری تعالیٰ ’’ تم اپنے اُوپر کیوں حرام کیے لیتے ہو وہ چیز جو اﷲنے تمہارے لیے حلال کی(کنز الاِیمان)‘‘سے ’’بےشک اللہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا اُتار مقرر فرمادیا(کنز الاِیمان)‘‘ کے آخِر تک ہے۔

اور امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان حنفی متوفی ۱۳۴۰ھ قسم توڑنے کے کفّارے کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’دس مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھاناکھلائے یا دس مسکینوں کو جوڑے دے یا دس مسکینوں کوفی مسکین ایک صاع(3840 گرام) جَو یا نصف صاع(1920 گرام) گیہوں یا اس کی قیمت دےاور جس سے یہ نہ ہوسکے وہ تین روزے رکھے۔‘‘(ملتقطاً)(فتاویٰ رضویہ، کتاب الاَیمان، ۱۳/۵۰۷، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اور مزید ایک مقام پر لکھا :’’ہاں استحساناً یہ صُورت حلف کی ہے اور یمین تحریم حلال ہی ہے اس کہنے کے بعد اگر اس سے بولا یا گھر گیا ، یا وہ چیز کھائی تو قسم ٹوٹ جائےگی ، کفّارہ دینا ہوگا۔ ‘‘(فتاویٰ رضویہ، کتاب الاَیمان، ۱۳/۵۷۹، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اور صُورتِ مسئولہ میں قسم ٹُوٹ چکی ہے لہٰذا قسم توڑنے کا  کٖفّارہ ادا کرنا واجب ہے اور وہ  یہ ہے کہ دس مساکین کو دو وقت کا درمیانی درجے کا کھانا کھلائے یا کپڑے  دے یا ایک غلام آزاد کرے اور اگر اِن میں سے کسی  کی بھی  استطاعت نہ ہو، تو پے درپے (لگاتار) تین دِن کے روزے رکھے۔

چنانچہ اللہ تبارک تعالیٰ لا فرمان ہے: لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَۚ-فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍؕ-فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍؕ-ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْؕ-وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ (المائدۃ:۵/۸۹)

ترجمہ: اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر  ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا  اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے یااِنہیں کپڑے دینایاایک بردہ(غلام) آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا جب قسم کھاؤ اوراپنی قسموں کی حفاظت کرو اسی طرح اللہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم احسان مانو (کنزالاِیمان)

اور مفتی خلیل خان برکاتی حنفی متوفی ۱۴۰۵ ھ قسم توڑنے کے کفّارے کے بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’قسم کا کفّارہ دس مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلانا یا اُن کو کپڑے پہناناہے ، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کھلانے کے عوض ہر مسکین کو ۲ (دو ) کلو گندم یا گندم کا آٹا یااس کی قیمت دے دے اور جو اِس پر قادر نہ ہو، وہ پے درپے تین روزے رکھے ۔ ‘‘ (فتاویٰ خلیلیہ، باب الیمین، ۲/۴۶۲، ضیاء القرآن پبلیکیشنز، لاہور)

مگر یادرہے کہ بات بات پر قسم کھانا عند الشرع ایک ناپسندیدہ عمل ہے اور بالخصوص کسی نیک یا خلافِ مصلحت کام نہ کرنے کی قسم کھانے سے احتراز کرنا ضروری ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا تَجْعَلُوا اللّٰهَ عُرْضَةً لِّاَیْمَانِكُمْ اَنْ تَبَرُّوْا وَ تَتَّقُوْا وَ تُصْلِحُوْا بَیْنَ النَّاسِؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ(البقرۃ:۲/۲۲۴)

ترجمہ: اور اللہ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنالو  کہ احسان اور پرہیزگاری اور لوگوں میں صلح کرنے کی قسم کرلو اور اللہ سنتا جانتا ہے(کنز الاِیمان)

آیتِ مذکورہ  کی تفسیر میں  امام ابو اللیث نصر بن محمد سمرقندی حنفی متوفی ۳۷۵ھ لکھتے ہیں:’’لا تَجعلُوا اللهَ بالحلفِ مانعاً لكُم أن تبرُّوا وتتَّقُوا، ولكنْ إذا حلَفْتم على أن لا تَصِلوا رحماً، ولا تتصَدَّقوا، ولا تُصْلِحوا، أو على شِبهِ ذلك مِن أبوابِ البرِّ، فكفِّروا اليمينَ‘‘(تفسیر السمرقندی المسمّی بحر العلوم، البقرۃ:۲، تحت الآیۃ: ۲۲۴، ۱/۱۴۸، مطبوعۃ: دار الکتب العلمیۃ، بیروت، الطبعۃ الأولیٰ ۱۴۱۳ھ- ۱۹۹۳م)

یعنی: اللہ  تعالیٰ کی قسم کو   اپنے لئے بھلائی اور پرہیزگاری کے کام کرنے سے آڑ (روک) نہ بناؤ بلکہ اگر تم صلہ رحمی، صدقہ، صلح اور اِس طرح کے اُمُور خیر  نہ کرنے پر قسم کھالو، تو (قسم توڑ کر اُس) قسم کا کفّارہ ادا کرو۔

اسی طرح  صدر الافاضل سیّد محمد نعیم الدین مرادآبادی حنفی متوفی۱۳۶۷ھ آیتِ مذکورہ کی تفسیر میں لکھتے ہیں:’’حضرت عبداللہ بن رواحہ نے اپنے بہنوئی نعمان بن بشیر کے گھر جانے اور اُن سے کلام کرنے اور اُن کے خصوم کے ساتھ اُن کی صلح کرانے سے قسم کھالی تھی جب اِس کے متعلّق اُن سے کہا جاتا تھا تو کہہ دیتے تھے کہ میں قسم کھاچکا ہوں اس لئے یہ کام کر ہی نہیں سکتا ،اِس باب میں یہ آیت نازل ہوئی اور نیک کام کرنے سے قسم کھالینے کی ممانعت فرمائی گئی۔ مسئلہ :اگر کوئی شخص نیکی سے باز رہنے کی قسم کھالے تو اس کو چاہئے کہ قسم کو پورا نہ کرے بلکہ وہ نیک کام کرے اور قسم کاکفارہ دے ۔مُسلم شریف(کتاب الأیمان،باب ندب من حلف یمیناً،رقم الحدیث:۱۶۵۱، ۳/۱۲۷۱، مطبوعۃ: دارالکتب العلمیۃ،بیروت) کی حدیث میں ہے رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کسی اَمر پر قسم کھالی پھر معلوم ہوا کہ خیر اور بہتری اس کے خلاف میں ہے تو چاہئے کہ اس اَمر خیر کو کرے اور قسم کا کفارہ دے ۔مسئلہ: بعض مفسّرین نے یہ بھی کہاہے کہ اس آیت سے بکثرت قسم کھانے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔‘‘ (تفسیر خزائن العرفان، البقرۃ:۲/۲۲۴، ص:۷۶، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ، کراچی)

یُونہی صدر الشریعہ  محمد امجد علی اعظمی حنفی متوفی ۱۳۶۷ھ لکھتے ہیں:’’اگر قسم کھانا کسی مصلحتِ شرعی کی بِنا پر نہ ہو، محض ضد یا دنیوی معاملہ میں آپس کی نفسانیت کی بِنا پر قَسم کھائی  اور بظاہر قسم توڑنے میں نفع ہو، کم از کم ایک مسلمان کی دِلداری تو ایسی قسم توڑدے ، اُس کے یہاں کھانا کھائے اور قسم کا کفّارہ دےدے، حدیث میں ہے:’’مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا، فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ، وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ‘‘(صحیح مسلم،کتاب الأیمان،باب ندب من حلف یمیناً،رقم الحدیث:۱۶۵۱، ۳/۱۲۷۱، مطبوعۃ: دارالکتب العلمیۃ،بیروت)(مسند أحمد بن حنبل، مسند الکوفیین، حدیث عدی بن حاتم الطائی، رقم الحدیث:۱۸۲۴۴، ۳۰/۱۷۷، مطبوعۃ:مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، الطبعۃ الأولیٰ۱۴۲۱ھ-۲۰۰۱م)(فتاویٰ امجدیہ، باب الیمین، ۲/۳۰۶، مطبوعہ: مکتبہ رضویہ، کراچی)

واللّٰہ تعالیٰ أعلم بالصواب

مجیب : سیّد منیز العطاری النّعیمی

فتوی نمبر : TF-4114

تاریخ اجراء :۱۳جمادی الثانی،۱۴۴۷ھ۔۵ ،دسمبر ،۲۰۲۵م

تازہ ترین فتاویٰ

سوال

قرض معاف کرنا

سوال

روپیہ بطورِ قرض دینا جبکہ واپسی میں سونے کی شرط ہو

سوال

بجلی کے بل

سوال

حربی کافر سے پاکستان میں سود لینا کیسا

سوال

اللہ تعالیٰ کو شفیع کہنا کیسا؟

کیٹیگریز