شیئر

ڈاؤن لوڈ

روپیہ بطورِ قرض دینا جبکہ واپسی میں سونے کی شرط ہو

سوال

الاستفتاء: کیا فرماتے ہیں ہیں عُلماء دین و مُفتیانِ شَرعِ متین اس مسئلہ میں کہ میں نے کسی کو 5 لاکھ روپے بطورِ قرض دئے ،مگر سونے کی مَد میں اور میں نے اُسے یہ کہا کہ کل کو آپ نے مُجھے سونا واپس کرنا ہے، آج کے ریٹ کے حساب سے یعنی آج کے دن جس دن میں آپ کو 5 لاکھ روپے دے رہا ہوں، اِن پانچ لاکھ میں آج کے دن جتنا سونا آتا ہے، اُتنا سونا ہی آپ مجھے واپس کروگے، مجھے 5 لاکھ روپے کیش واپس نہیں چاہئے۔مُجھے کسی نے یہ کہا کہ ایسا کرنا دُرست نہیں مگر میں نے اُس شخص کو دیتے وقت ہی یہ بات بتادی تھی اور اُس نے حامی بھی بھرلی تھی، اب اِس معاملے میں میرے لئے کیا حکم ہے؟ رہنمائی کیجئے۔

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

باسمہ تعالیٰ و تقدس الجواب : صورت مسئولہ میں پانچ لاکھ روپے قرض دے کر اتنی رقم کا سونا وصول کرنا شرعاً درست نہیں ، آپ رقم وصول کرنے کے بعد خود اِس پانچ لاکھ کا سونا خرید لیں.

قرض کا شرعی اصول یہ ہے کہ جو چیز جس حالت میں مقروض نے وصول کی ہو، اِسی کی مثل اتنی ہی چیز واپس کرنا لازم ہوتا ہے۔جب مثلی شے قرض میں دی جائے تولوٹاتے وقت اُس کی مثل ہی دینا لازم ہوتا ہے۔

چنانچہ علّامہ برھان الدین علی بن ابوبکرمرغینانی حنفی متوفی۵۹۳ھ لکھتے ہیں: الدُّیونُ تُقضیٰ بأمثالِھا۔ (الھدایۃ شرح بدایۃ المبتدی،کتاب الودیعۃ، ،۳/۲۱۰، مطبوعۃ: دارارقم، بیروت، الطبعۃ الأولیٰ ۱۴۱۰ھ-۱۹۹۰م)

یعنی،قرض اُن کے مساوی کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے۔

اور نوٹ مثلی چیز ہے۔

چنانچہ امام ِ اہلسنت امام احمد رضا  خان حنفی متوفی۱۳۴۰ھ لکھتے ہیں :  نوٹ قرض دینا جائز ہے کہ وہ مِثلی ہے اور مثل ہی کے دینے سے ادا کیا جائے گا کہ قرض کی یہی شان ہے بلکہ کوئی دَین ادا نہیں کیا جاتا مگر اپنے مِثل سے۔ (فتاوی رضویہ، کتاب البیوع، باب الربٰو، رسالہ کفل الفقیہ الفاھم فی أحکام قرطاس الدّراھم،۱۷/۴۲۴، مطبوعہ:رضافاؤنڈیشن،لاہور، ۱۴۲۳ھ-۲۰۰۳م)

اور جس کی مِثل نہیں اُس کو قرض میں دینا جائز نہیں۔

اورقرض کی ادائیگی  میں مقدار کے اعتبار سے برابری ضروری  ہے۔

چنانچہ امام ِ اہلسنت  لکھتے ہیں :  اورقرضوں کی ادائیگی ان کے مثل کے ساتھ ہوتی ہے اِس میں مقدار کے اعتبار سے مساوات شرط ہے۔(فتاوی رضویہ، کتاب القرض، ۱۷/۲۷۷، مطبوعہ:رضافاؤنڈیشن،لاہور، ۱۴۲۳ھ-۲۰۰۳م)

 

اور صدر الشریعہ محمد امجد علی اعظمی حنفی متوفی ۱۳۶۷ھ لکھتے ہیں: قرض کا حکم یہ ہے کہ جو چیز لی گئی ہےاُس کی مثل ادا کی جائے لہذا جس کی مثل نہیں،قرض دینا صحیح نہیں۔(بہارِ شریعت، قرض کا بیان، مسائل فقہیہ۲، ۲ /۷۵۹، مطبوعۃ: مکتبۃ المدینہ، کراچی )

قرض میں واپسی پر کوئی اور چیز دینے کی شرط  لگا دی ،تو یہ شرط باطل کہلائے گی۔

چنانچہ علّامہ شمس الدّین ابو بکر محمد بن ابی سہل سرخسی حنفی متوفیٰ ۴۸۳ھ لکھتے ہیں: وَالقرضُ لَا يَتعلّقُ بِالجَائزِ مِن الشُّروط، فَالفاسِد مِن الشُّروطِ لَا يُبطلُه وَلكنْ يَلْغُو شَرطُ ردَّ شيءٍ آخرَ فَعليْهِ أن يَّردَّ مِثلَ الْمقْبُوضِ۔(المبسوط سرخسی، کتاب الصرف، باب البیع بالفلوس،۱۴/۲۷، دار المعرفہ، بیروت،الطبعۃ الأولیٰ ۱۴۲۱ھ۔۲۰۰۰م)

یعنی، اور قرض کے ساتھ کوئی جائز شرط متعلق نہیں ہوتی، (جب جائز شرط متعلق نہیں ہوتی، تو شرطِ فاسد بدرجہ اولیٰ متعلق نہیں ہو گی، لہذا) شرائطِ فاسدہ عقدِ قرض کو باطل نہ کریں گی، لیکن (خود باطل ہو جائیں گی) اور دوسری چیز واپس کرنے کی شرط لغو ہو جائے گی، پس (ایسی شرط کے باوجود) مقروض پر اُسی چیز کی مثل ادا کرنا لازم ہو گا، جس پر اُس نے قبضہ کیا تھا۔

اورصدر الشریعہ لکھتے ہیں: قرض میں کسی شرط کا کوئی اثر نہیں،شرطیں بیکار ہیں مثلاً یہ شرط کہ اِس کے بدلے میں فلاں چیز دینا۔ (بہارِ شریعت، قرض کا بیان، مسائل فقہیہ۱۸، ۲ /۷۵۹، مطبوعۃ: مکتبۃ المدینہ، کراچی )

اورقرض پر مشروط نفع سود ہوتا ہے۔

چنانچہ علّامہ علاؤ الدین محمد  بن علی حصکفی  حنفی متوفی ۱۰۸۸ ھ لکھتے ہیں: کُلّ قرْضٍ جَرّ نفْعًا حَرامٌ۔(الدر المختار،  كتاب البيوع، باب الربا،ص۴۳۰،مطبوعۃ:دارالکتب العلمیۃ، الطبعۃ الأولی ۱۴۲۳ھ-۲۰۰۲م)

یعنی، ہر وہ قرض جو نفع لائے، حرام ہے۔

اور علّامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ۱۲۵۲ھ اِس کے تحت لکھتے ہیں: إذا کان مشروطاً۔(رد المحتار علی الدرالمختار، کتاب البیوع، باب المرابحۃوالتولیۃ ،فصل فی القرض،۷/۴۱۳، مطبوعۃ: دارالمعرفۃ،بیروت ،الطبعۃ الأولٰی ۱۴۲۰ھ-۲۰۰۰م)

یعنی، جب وہ نفع قرض میں مشروط ہو، (تو حرام )ہے۔

لہٰذا  نقد رقم کی صورت میں قرض دیا ہے تو واپسی میں اتنی ہی رقم (مثلًا: مسئولہ صورت میں پانچ لاکھ روپے) لینا جائز ہوگا۔ یا پھر قرض خواہ  خود سونا وزن سے خرید کر قرض دے دے، اور واپسی میں اتنے وزن کا سونا واپس لے لے، خواہ اس کی قیمت بڑھی ہو یا گھٹی ہو۔

چنانچہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی حنفی متوفی ۱۳۶۷ھ لکھتے ہیں: قرض کا حکم یہ ہے کہ جتنا دیا ہے اتنا ہی وصول کریں اس سے زیادہ لینا ناجائز ہے۔۔(فتاوی امجدیہ ،باب الرباء،۳/۲۳۷، مطبوعۃ: مکتبہ رضویہ آرام باغ روڈ ، کراچی )

سونا مثلی شے(اس کی مثل بازار میں پائی جاتی) ہےاورمثلی شےکا قرض میں لینا دینا جائز ہے ۔اور جب مثلی شے قرض میں دی جائے تو لوٹاتے وقت اِس کی مثل ہی دینا ہوگا اِس کے مہنگے یا سستے ہونے کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا۔

چنانچہ علّامہ  نظام الدین  حنفی متوفی ۱۰۹۲ھ اور علمائے ہند کی ایک جماعت  نے لکھا ہے: يجوزُ ‌استقراضُ ‌الذهب ِوالفضةِ وزناً.(الفتاوی الھندیۃ، کتاب البیوع،الباب التاسع  عشر فی القرض والاستقراض،۳/۲۰۲، مطبوعۃ:دارالمعرفۃ، بیروت، الطبعۃ الثالثۃ ۱۳۹۳ھ-۱۹۷۳م)

یعنی،سونا اور چاندی کو وزن کر کے قرض دینا جائز ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

مجیب : اختری قادری نعیمی

فتوی نمبر : TF-4112

تاریخ اجراء : ۱۰،جمادی الثانی۱۴۴۷ھ،۲،دسمبر۲۰۲۵م

تازہ ترین فتاویٰ

سوال

فلاں رشتہ دار کے گھر کا کھانا مجھ پر حرام ہے، کہنے کا حکم

سوال

قرض معاف کرنا

سوال

بجلی کے بل

سوال

حربی کافر سے پاکستان میں سود لینا کیسا

سوال

اللہ تعالیٰ کو شفیع کہنا کیسا؟

کیٹیگریز