بإسمہ تعالٰی وتقدس الجواب:اولاًتو یہ بات یاد رکھیں کہ سود لینا کسی سے بھی جائز نہیں ہے،ہاں کافر )حربی( جو نہ ذمی ہو نہ مستامن ،اس سے بغیر کسی دھوکہ وغدر کے عقودِ فاسدہ کے ذریعے اس کی مرضی سےمنافع لینا جائز ہے،کیونکہ کافر غیر ِمستامن و ذمی کا مال معصوم نہیں بلکہ ’’مالِ مباح‘‘ ہے،لہذا صورت مسئولہ میں سائل کا پاکستانی کافرکو قرضہ دے کر اس سے نفع لینا جائز ہے، بشرطیکہ اس نفع لینے میں سود کی نیت نہ کرےورنہ گنہگار ہوگا۔
سود حرام ہے۔
جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: اَلَّذِیْنَ یَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا یَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا یَقُوْمُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُهُ الشَّیْطٰنُ مِنَ الْمَسِّؕ-ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ-وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ- (البقرۃ،۲/۲۷۵)
ترجمہ:وہ جو سُود کھاتے ہیں قیامت کے دن نہ کھڑے ہوں گے مگر جیسے کھڑا ہوتا ہے وہ جسے آسیب نے چھو کر مخبوط بنا دیاہویہ اس لیے کہ انہوں نے کہا بیع بھی تو سُود ہی کے مانند ہے اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا سُود۔ (کنزالایمان)
اورحُرمتِ ربا کی تخصیص فقط اہلِ اسلام کے لئے نہیں ہے بلکہ مطلقاًہے ،کیونکہ گذشتہ ادیان میں بھی سود حرام تھا ،اسی لئے علماء فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کےآپس میں سودی معاملہ کرنے کی طرح مسلمان کا ،کافر(ذمی ومستامن)سے بلکہ دو کافروں کا آپس میں بھی سودی لین دین حرام ہے۔
چنانچہ علّامہ ابوبکر بن مسعود کاسانی حنفی متوفی ۵۸۷ھ لکھتے ہیں:(وأمَّا) إسلامُ الْمُتَبايِعينَ فَلَيسَ بشَرطٍ لجريَانِ الرِّبَا،فَيَجرِي الرِّبَا بَينَ أهلِ الذِّمَّةِ،وبَينَ الْمُسلِمِ والذِّمّيِّ؛ لأنّ حُرمَةَ الرّبَا ثَابِتةٌ فی حَقِّهِم،لأنّ الكُفّارَ مُخَاطَبُونَ بِشَرَائِعَ هيَ حُرُمَاتٌ إن لَم يَكُونُوا مُخَاطَبِينَ بِشَرَائِعَ هيَ عِبَادَاتٌ عِندَنَا،قَالَ اللہُ تَعالَى:وَأَخذِهِمُ الرِّبَا وَقَد نُهُوا عَنهُ وَأَكلِهِم أَموَالَ النَّاسِ بِالبَاطِلِ(النساء،۱۶۱)(بدائع الصنائع،کتاب البیوع،فصل فی شرائط جریان الربا،۷/۸۲،مطبوعۃ:دارالکتب العلمیۃ،بیروت،الطبعۃ الاولی ۱۴۱۸ھ-۱۹۹۷م)
یعنی:بہرحال حُرمتِ سود جاری ہونے کے لئے لین دین کرنے والوں کامسلمان ہونا شرط نہیں ہے،(بلکہ)دو ذی کافروں اور مسلمان و کافر کے مابین بھی حرمت ربا کاحکم باقی رہے گا،بوجہ یہ کہ سود کی حُرمت کُفّار کے حق میں بھی ثابت ہے،کیونکہ ہمارے نزدیک اگرچہ کُفّار عبادات کے مخاظب نہیں ہیں لیکن مُحرّمات کے ضرور مخاطب ہیں ،(جیساکہ ) اللہ تعالی فرماتا ہے: اور اس لیے کہ وہ سود لیتے حالانکہ وہ اس سے منع کیے گئے تھے اور لوگوں کا مال ناحق کھاجاتے اور ان میں جو کافر ہوئے ہم نے ان کے لیے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔
ہاں حربی کافرسے بغیر دھوکہ دیئےاسی کی مرضی سےمشروط نفع لیا جاسکتا ہے،مثلاً:اسے قرض دے کر اس پر نفع لینا ، جس کا جواز درجہ ذیل حدیث سے بالصّراحت ثابت ہے۔
چنانچہ علامہ محمد بن احمد شمس الآئمہ سرخسی حنفی متوفی ۴۸۳ھ لکھتے ہیں :ذُکِر عَن مَکحُولٍ عَن رَسُولِ اللہِ ﷺ قَال: لَارِبَا بَینَ المُسلِمِینَ وبَینَ أہلِ دَارِالحَربِ فِی دَارِ الحَربِ۔(المبسوط،کتاب الصرف،باب الصرف فی دار الحرب، ۷-۱۴/۴۸،مطبوعۃ:دارالفکر،بیروت،الطبعۃ الاولی ۱۴۲۱ھ-۲۰۰۰م)
یعنی:حضرت مکحول (علیہ الرحمہ)کے حوالے سے مذکور ہے کہ وہ روایت کرتے ہیں ،رسول اللہ ﷺنے فرمایا:مسلمانوں اور اہل حرب کے مابین دار الحرب میں سود(متحقق) نہیں ہوتا۔
اورعلامہ برہان الدین ابو الحسن علی بن ابوبکر فرغانی مرغینانی متوفی۵۹۳ھ لکھتے ہیں :ولا بین المسلم والحربی فی دار الحرب ۔۔۔ولنا قولہ علیہ الصلاۃ والسلام:لاربا بین المسلم والحربی فی دار الحرب۔(الھدایۃ،کتاب البیوع،باب الربا،۲-۳/۶۷، مطبوعۃ: دارارقم،بیروت)
یعنی:مسلمان و حربی کافر کے درمیان دارالحرب میں کوئی سود نہیں ہے، ہماری دلیل نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ ’’مسلمان وحربی کے مابین دارالحرب میں ربا(متحقق) نہیں ہے‘‘۔
اور علامہ محمد بن علی علاؤالدین حصکفی حنفی متوفی ۱۰۸۸ھ لکھتے ہیں:لأن مالہ ثمۃ مباح فیحل برضاہ مطلقاً بلاغدر۔(الدرالمختار،کتاب البیوع، باب الربا،۴۳۳،مطبوعۃ:دارالکتب العلمیۃ،بیروت،الطبعۃ الأولی۱۴۲۳ھ-۲۰۰۲م)
یعنی:کافر کا مال وہاں مباح ہے،پس بغیر دھوکہ دئے اس کی مرضی سے لینا مطلقاً حلال ہے۔
حربی کافر کا مال ’’مباح‘‘ ہے یعنی ’’معصوم ‘‘نہیں ہے،یہی وجہ ہے کہ قرض دے کر بغیر دھوکہ دیےاس سےمشروط نفع لینے میں سود متحقق ہی نہیں ہوتا،کیونکہ تحقق سود کی قیود میں سے علماء نے بدلین کا معصوم ہونا بھی شمار فرمایاہے۔
چنانچہ علّامہ ابوبکر بن مسعود کاسانی حنفی متوفی ۵۸۷ھ لکھتے ہیں:وأمّا شرائط جریان الربا (فمنھا) أن یکون البدلان معصومین، فإن کان أحدھما غیر معصوم لایتحقق الربا عندنا ۔۔۔ وعلی ھذا الأصل یخرج ماإذا دخل مسلم دارلحرب تاجراً فباع حربیا درھماً بدرھمین أو غیر ذلک من سائر البیوع الفاسدۃ فی حکم الإسلام أنہ یجوز عند أبی حنیفۃ و محمد۔(بدائع الصنائع،کتاب البیوع،فصل فی شرائط جریان الربا،۷/۸۰،مطبوعۃ:دارالکتب العلمیۃ،بیروت،الطبعۃ الاولی ۱۴۱۸ھ-۱۹۹۷م)
یعنی:اور ربا متحقق ہونے کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ دونوں طرف کامال معصوم ہو،اگر طرفَین میں سے ایک طرف کا مال بھی غیر معصوم ہوا تو ہمارے نزدیک سود متحقق ہی نہ ہوگا،اسی اصول کی بنیاد پر یہ مسئلہ بھی ماخوذ ہوتا ہے کہ جب کوئی مسلمان دارالحرب میں بحیثیتِ تاجر داخل ہوکر،حربی کو ایک درھم دو کے بدلے فروخت کرنا،یا عند الاسلام دیگر بیوعِ فاسدہ کے ذریعے اس کا مال (بغیر دھوکہ اس کی مرضی سے )لینا امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے نزدیک جائز ہے۔
اور علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی لکھتے ہیں :قال فی الشّرنبلالیۃ :ومن شرائط الربا عصمۃ البدلَین ۔(ردالمحتار علی الدر المختار،کتاب البیوع،باب الربا،۷/۴۱۷،مطبوعۃ:دارالمعرفۃ،بیروت،الطبعۃالأولی۱۴۲۰ھ-۲۰۰۰م)
یعنی:شرنبلالیہ میں فرمایا : شرائط ربا میں سے بدلین کا معصوم ہونا (بھی )ہے۔
اورعلامہ برہان الدین ابو الحسن علی بن ابوبکر فرغانی مرغینانی متوفی۵۹۳ھ لکھتے ہیں :ولأن مالھم مباح فی دارھم فبأی طریق أخذہ المسلم أخذہ مالا مباحا إذلم یکن فیہ غدر۔(الھدایۃ،کتاب البیوع،باب الربا،۲-۳/۶۷، مطبوعۃ: دارارقم،بیروت)
یعنی:اوراس لئے کہ حربی کا مال دارلحرب میں مباح ہے ، مسلمان کسی بھی طریقے سے اسے حاصل کرے گا تو مال مباح ہی لینے والا قرار پائے گا،جبکہ اس میں دھوکہ نہ ہو۔
نیز مسلمان کے لئے اس منافع کے حصول کا جواز اس وقت ہے جبکہ وہ اس کے لینے میں سود کی نیت نہ کرے ورنہ گنہگار ہوگا۔
چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان حنفی متوفی ۱۳۴۰ ھ رقمطراز ہیں:کافر غیرذمی کا مال بلاغدر جو حاصل ہووہ مال مباح سمجھ کر لینا حلال ہے،سود جان کر لینا حرام ،(کیونکہ)قصدِ معصیّت خود معصیّت ہے۔(فتاوی رضویہ ،کتاب البیوع،باب الربا،۱۷/۳۴۱، مطبوعہ:رضا فاؤنڈیشن،لاہور،اشاعت:۱۴۲۰ھ-۲۰۰۰م)
یاد رہے کہ مذکورہ روایت و جزئیات میں’’دارالحرب‘‘ کی قید کا منشاء دو صورتوں پر محمول ہوسکتا ہے،یا تو ’’دار الحرب‘‘ کی قید اتفاقی ہے احترازی نہیں ،یا پھر اس کامقصد اخراج ِمستامن ہے نہ کہ اخراج ِدار (مملکت/ دارالاسلام)،کیونکہ شَرع مُطہّر میں ایسا نہیں ہے کہ ایک چیز ایک مقام پر حلال ہواور دوسری جگہ حرام ہو ۔
چنانچہ امام اہلسنت امام احمد رضا خان حنفی متوفی ۱۳۴۰ ھ لکھتے ہیں:اور یہیں سے ظاہر ہوگیا کہ اس مسئلہ میں ماخوذ منہ کا کافرحربی(ہو)خواہ محل اخذ کا دارالحرب ہونا ضرور نہیں ،صرف انتفائے حقیقت و قصدِربا درکار ہے کہ اس کے بعد نہ عنداللہ ارتکابِ حرام نہ اپنے زعم میں مخالفتِ شرع پراقدام،علماء نے کہ مسئلہ حربی میں قیددارالحرب ذکر فرمائی،اس کامنشاء اخراج ِمستامن ہے کہ اس کا مال مباح نہ رہا ،ردالمحتار میں ہے:(قَولُہُ ثَمّۃ)أی فی دِارِا لحَربِ قَیَّد بہٖ لِأنّہُ لَو دَخَل دَارَنا بِأمانٍ فَبَاعَ مِنہُ مُسلِمٌ دِرھَماً بِدِرھَمَینِ لَایَجُوزُ اِتِّفاقاً۔(ردالمحتارعلی الدر المختار،کتاب البیوع،باب الربا،مطلب:فی استقراض الدراھم عددا، ۷/۴۴۲،مطبوعۃ:دارالمعرفۃ،بیروت،الطبعۃالأولی۱۴۲۰ھ-۲۰۰۰م)،یعنی:ماتن کاقول’’وہاں‘‘ یعنی دارالحرب،یہ قید اس لئے کہ اگر کوئی حربی ہمارے ملک میں امان لے کر داخل ہواپھر مسلمان نے اس کے ہاتھ ایک درھم دو درھموں کے عوض فروخت کیا تو بالاتفاق ناجائز ہے۔(امام اہلسنت مزید لکھتے ہیں)مسلم وحربی میں نفئ ربا بربنائے انتفائے عصمت ہےووجودِ اباحت ہے، نہ بربنائے انتفائے شرف دار ۔۔۔فأقول و باللہ التوفیق:اگر اس سےمقصود کہ تحریم ِمُحرمات بوجہ شرفِ دار تھی ’’دارالحرب میں کہ یہ شرف مفقود حُرمت مفقود ،ولہذا وہاں غصب و ربا حلال و موجب ملک ہے ‘‘تو بداہۃً باطل،احکام الہی دارٍ دون دارٍ (ایک ملک سوائے دوسرے ملک کے) پر موقوف نہیں ،نہ اختلافِ زمین کسی حرام شے کو حلال کرتا ہے۔۔۔(کیونکہ)کوئی حرام بوجہ انتفائے شرف دار حلال نہیں ہوسکتا تو دارالحرب میں کسی شے کی حلّت فی نفسہ اس کی حلّت ہے کہ باختلاف دار مختلف نہ ہوگی ،رہا وہاں امورِ مذکورہ کاحلال ہونا وہ ہرگز اس بناء پر نہیں کہ یہ مُحرمات وہاں حلال ہیں بلکہ وجہ یہ کہ ان مُحرمات کی حقیقت ،عصمت و محظوریت پر مبنی (ہے)۔۔۔(معلوم ہوا)دار الحرب حرام کو حلال نہیں کرتی اور دارالاسلام کسی ایسے اسم بے مسمی ٰ کو حرام نہیں فرماتی ،تصریحاتِ بے شمار سے واضح آشکار ،تو مانحن فیہ میں تفرقہ بین دار و دار کی طرف کوئی سبیل نہیں ۔(فتاوی رضویہ ،کتاب البیوع،باب الربا،۱۷/مطبوعہ:رضا فاؤنڈیشن،لاہور،اشاعت:۱۴۲۰ھ-۲۰۰۰م)
اورعلّامہ جلال الدین احمد امجدی حنفی ،متوفی۱۴۲۲ھ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے رقمطراز ہیں؛زید کا قول صحیح نہیں اس لئے کہ حدیث شریف میں دارالحرب کی قید یا تو احترازی نہیں ہےاتفاقی ہےکہ اُس زمانہ میں کافروں میں سےصرف ذمی اورمستامن ’’دارالاسلام‘‘ میں رہتے تھے اور حربی ’’دارالحرب‘‘ ہی میں رہتا تھا،اس لیے کہ بغیر امان لئے اگر وہ دارالاسلام میں داخل ہوتا تو اس کی جان ومال محفوظ نہ رہتے جیساکہ رد المحتار میں ہے:لَودَخلَ دارَنا بِلاأمان کانَ ومَا مَعہُ فیئا(ردالمحتارعلی الدر المختار،کتاب الجہاد،باب المستامن،فصل فی استئمان الکافر، ۶/۲۶۶،مطبوعۃ:دارالمعرفۃ،بیروت،الطبعۃالأولی۱۴۲۰ھ-۲۰۰۰م)، اس لئے حضوراقدس ﷺ نے ’’فی دارالحرب‘‘فرمادیا نہ اس لئے کہ حربی کافر کبھی دارالاسلام میں رہے تو مسلمان اور اس کے درمیان سودہوجائے گا،۔۔۔یاتو حدیث شریف میں ’’فی دارالحرب ‘‘ کی قید مستامن کو نکالنے کے لئے ہے یعنی جب حربی مستامن ہوجائے تو اس کے اور مسلمان کے درمیان سود ہے ،اس لئے کہ امان کے سبب اس کا مال مباح نہیں رہ جاتا کہ عقودِ فاسدہ کے ذریعہ مسلمان اس کو حاصل کرسکے۔(فتاوی فیض الرسول ،کتاب البیوع،باب الربا(سود کابیان)،۲/۳۸۹-۳۹۰،مطبوعہ:شبّیر برادرز،لاہور،طباعت ۱۴۱۴ھ-۱۹۹۳ء)
یہی وجہ ہے کہ علماء ہند نے ہندوستان کے دارالاسلام ہونے کے باوجود یہاں کے کفار(جو نہ ذمی ہیں نہ مستامن) سے عقود فاسدہ کے ذریعے منافع حاصل کرنے کو جائز لکھا ہے۔
جیساکہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی حنفی متوفی ۱۳۶۷ھ لکھتے ہیں:ہندوستان اگرچہ دارالاسلام ہے اس کو دارالحرب کہنا صحیح نہیں ،مگر یہاں کے کفار یقیناً نہ ذمی ہیں ،نہ مستامن کیونکہ ذمی یامستامن کے لئے بادشاہ اسلام کا ذمہ کرنا اور امن دینا ضروری ہے،لہذا ان کفار کے اموال عقود فاسدہ کے ذریعہ حاصل کئے جاسکتے ہیں ،جبکہ بد عہدی نہ ہو۔(بہارِ شریعت،سود کا بیان ،۲-۱۱/۷۷۶،مطبوعہ:مکتبۃ المدینہ ،کراچی،اشاعتِ پنجم:۱۴۳۴ھ-۲۰۱۳م)
اور مفتی جلال الدین امجدی حنفی متوفی ۱۴۲۲ھ اپنے تصدیق شدہ فتاوی جات میں سے ایک ایسے فتوے کی تصدیق بھی کرتے ہیں جو دارالاسلام میں کافر سے سود لینے کےجواز و عدمِ جواز کے استفتاء پر لکھا گیا:(فتوی) سود کسی سے بھی لینا جائز نہیں :جیسا کہ ارشاد ربی ہے:’’وحرم الربوا‘‘ نہ اس میں مسلم کی قید ہے نہ حربی کی اور نہ دارالاسلام کی ۔ البتہ کافر حربی سے کوئی مال ہاتھ آئے اگرچہ عقدِ فاسد کے ذریعہ ہوتو مال حلتِ اصلیہ کی بنیاد پر حلال ہوگا اور سود نہ ہوگا،یہ نہیں کہ سود ہے اور حلال ہے، بلکہ یہ سود نہیں اس لئے حلال ہے۔حدیث شریف میں ہے’’لاربا بین المسلم والحربی‘‘ ،اور کیونکہ کر سود ہو جب کہ سود کے لئے عصمتِ بدلین شرط ہے۔۔۔اور کافر حربی کا مال معصوم نہیں لہذا وہ سود نہیں ،اور ہندوستان کے کفار حربی ہیں ،لہذا ان سے جو رقم ان کی خوشی سے دستیاب ہو جب کہ غدر نہ ہواگرچہ وہ سود کہہ کر دیں مگر جب لینے والاسود سمجھ کر نہ لے تو جائز ہے،او رسود سمجھ کر لینا جائز نہیں ۔(فتاوی فقیہ ملت،کتاب البیوع،باب الربا،۲/۲۰۷،مطبوعہ:شبیر برادرز،لاہور،اشاعتِ اول ۲۰۰۵م)
اور پاکستان کے کفار بھی حربی ہیں اگرچہ یہ دارالاسلام ہے،کیونکہ یہاں کےکفار نہ تو کوئی جزیہ دیتے ہیں اور نہ ان پر کوئی مذہبی پابندی ہے۔
چنانچہ علامہ عبد الرحیم بستوی حنفی متوفی ۱۴۳۲ھ اپنے اپنے تصدیق شدہ فتاوی جات میں سے ایک ایسے فتوے کی تصدیق بھی کرتے ہیں جو پاکستان کے کفار حربی یا ذمی ہونے کے جواب میں لکھا گیا:(فتوی) پاکستان دارالاسلام ضرور ہے مگر وہاں کے کفار حربی ہیں ذمی نہیں اس لئے کہ ذمی ہونے کی شرائط مفقود ہیں نہ وہ جزیہ دیتے ہیں اور نہ ان پر کوئی مذہبی پابندی ہے،پاکستان میں جس طرح مسلمانوں کو مذہبی آزادی ہے کافروں کے لئے بھی ویسے ہی مذہبی آزادی ہے۔(مجموعہ فتاوی بریلی شریف،۳۵۳،مطبوعہ:زاویہ پبلیشرز،لاہور،طباعت:۲۰۰۴م)
واللّٰہ تعالیٰ ورسولہ أعلم بالصواب